اردو ٹائپ کرنے میں دشواری ہے ؟
دل_شکستہ حریف_شباب ہو نہ سکا
شاعر:اختر شیرانی
ذریعہ : ریختہ
نگاہ فیض سے محروم برتری معلوم
ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا
ہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسی
یہ سیل نور ستم ہے شراب ہو نہ سکا
یہ مے چھلک کے بھی اس حسن کو پہنچ نہ سکی
یہ پھول گھل کے بھی اس کا شباب ہو نہ سکا
کسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کو
میں ناتواں تو حریف خطاب ہو نہ سکا
ہوں تیرے وصل سے مایوس اس قدر گویا
کبھی جہاں میں کوئی کامیاب ہو نہ سکا
شراب عشق میں ایسی کشش سی تھی اخترؔ
کہ لاکھ ضبط کیا اجتناب ہو نہ سکا
دل_فسردہ اسے کیوں گلے لگا نہ لیا
شاعر:شہزاد احمد
کسی بھی حال میں پہنچے تو ہیں کنارے پر
یہی بہت ہے کہ احسان ناخدا نہ لیا
میں جی رہا ہوں مگر یاد رفتگاں کی طرح
مجھے گئے ہوئے لمحوں نے کیوں بلا نہ لیا
امید شعلہ نہیں آفتاب ہے شہزادؔ
چراغ تھا تو ہواؤں نے کیوں بجھا نہ لیا
دل_مضطر تری فرقت میں بہلایا نہیں جاتا
شاعر:جمیلہ خاتون تسنیم
ڈراتا کیوں ہے اے ناصح محبت کی کشاکش سے
پھنسا کر دل کو اس کوچے سے کترایا نہیں جاتا